Civil Servant 48th common ||| Passionate about archaeology/history/culture and religions

New York, USA| Islamabad
Sir Mortimer Wheeler was the last Director General of Archeological Survey of India and after partition he became Advisor to the Newly established Government of Pakistan. Sir Mortimer Wheeler introduced scientific methods of like grid system excavation etc. Serving as Archaeological Advisor to the Government of Pakistan Sir Mortimer Wheeler started excavating Mohenjodaro in 1950 and trained a generation of archaeologists in Pakistan. In this Video Sir Mortimer Wheeler is seen taking a UN Mission on a tour of the site of Mohenjodaro Courtesy: UCLA film and Television Archive
7
51
141
48,976
Qurat Ul Ain retweeted
I was an idiot / Rauf Klasra مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب کالج اور یونیورسٹی پہنچے تو پہلی دفعہ یہ لفظ ''ویک اینڈ‘‘ سنا اور پڑھا۔ بڑا عجیب لگتا تھا کہ گوروں کے الگ ہی نخرے ہیں۔ یہ ویک اینڈ کس بلا کا نام ہے؟ یہ کیا بات ہوئی کہ دو دن کیلئے پوری دنیا سے دور‘ غائب‘ اپنی دنیا میں مگن۔ مجھے یاد ہے کہ اکثر جب کبھی ویک اینڈ کی بات ہوتی تو مذاق اڑاتے کہ بڑا آیا انگریز۔ اُس وقت صرف ایک ہی چھٹی ہوتی تھی‘ جمعہ یا اتوار۔ پھر ویک اینڈ کے بارے میں مزید جانکاری ہوئی تو اندازہ ہونے لگا کہ یہ دو دن کی بریک انسانوں کیلئے کتنی اہم ہے۔ یہ دو دن اسے اس قابل کرتے ہیں کہ وہ اگلے ہفتے پانچ دن مسلسل اور اَن تھک کام کرسکے۔ اب ان دو دنوں میں اسے کوئی بھی ڈسٹرب نہ کرے۔ یہ اس کا وقت ہے‘ اس کی فیملی کا وقت ہے۔ اب اس نے اپنی بیٹری چارج کرنی ہے۔ چاہے اس کے دفتر پر قیامت ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے‘ اسے ای میل تک مت کریں‘ فون تو دور کی بات ہے۔ وہ ان دو دنوں میں ای میل کھول کر یا واٹس ایپ میسج پڑھ کر تھوڑا سا بھی سٹریس لینے کو تیار نہیں ہوتے کہ سوموار کو دیکھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی گورے‘ یورپی یا امریکی ویک اینڈ پر کام نہیں کرتے۔ ہاں اُن دنوں میں ہم جیسے ایشیائی امیگرنٹس خوش ہو کر ویک اینڈ ڈیوٹی دیتے ہیں کیونکہ پیسے زیادہ ملتے ہیں۔ گورا کہتا ہے کہ میرا جسمانی اور ذہنی سکون سب سے اہم ہے‘ پاؤنڈز‘ ڈالر یا یورو نہیں۔ ہم ایشیائی کہتے ہیں کہ بھائی ہم نے جسمانی اور ذہنی سکون کا اچار ڈالنا ہے؟ ہمیں تو پاؤنڈز‘ یورو اور ڈالرز چاہئیں۔ وہ دے دیں‘ چاہے سات دن مسلسل چوبیس گھنٹے کام کرا لیں۔ اگر جسمانی اور ذہنی عیاشی درکار تھی تو پھر اپنا گھر اور ملک چھوڑ کر‘ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر یہاں اتنی دور کیا کرنے آئے ہیں؟ ہمیں پاؤنڈز‘ ڈالرز اور یورو ہی سکون دے سکتے ہیں۔ یوں گورا اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کی وجہ سے نوے سال یا ایک سو سال تک صحت مند رہتا ہے جبکہ ہم ایشیائی‘ خصوصاً پاکستانی پچاس سال کے بعد شوگر‘ امراضِ قلب یا دیگر بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خیر‘ بات ہو رہی تھی ویک اینڈ کی تو میں نے ان دو دنوں کو اس وقت سے انجوائے کرنا شروع کیا جب اسلام آباد میں دو چھٹیوں کا قانون لاگو کیا گیا۔ میرا ٹی وی شو سوموار سے جمعرات تک ہوتا ہے‘ چار دن۔ یوں کہہ لیں کہ میرا ویک اینڈ گوروں سے بھی طویل ہوتا ہے۔ ہم جو کبھی گوروں کا مذاق اڑاتے تھے اب ڈر کے مارے کسی کو نہیں بتاتے کہ ویک اینڈ کتنی بڑی نعمت ہے اور اس کی ہم انسانوں کے جسم‘ دماغ اور روح تک کو کتنی ضرورت ہوتی ہے۔ خیر‘ ویک اینڈ پر ان دنوں زیادہ تر کتابیں پڑھ لیں‘ فلمیں دیکھ لیں‘ دوستوں سے مل لیے یا پھر گاؤں کا چکر لگا لیا۔ فلموں میں مجھے ویسٹرن فلمیں بہت پسند ہیں۔ اس ہفتے ویسٹرن فلموں کے لیجنڈ اداکار ایسٹ کلنٹ وُڈ کی ایک فلم دیکھ رہا تھا‘ جس کے ایک سین نے مجھے بہت متاثر کیا اور اس نے دو تین منٹ میں پوری زندگی کی فلاسفی سمجھا دی۔ اُس سین میں وہ اپنے باس کے بیٹے کو اس کی ماں کے ہاں سے پِک کرکے‘ ایک مشکل سفر طے کرکے واپس لا رہا ہے اور راستے میں وہ دونوں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ فلم 2021ء کی ہے۔ اس وقت ایسٹ کلنٹ وُڈ بہت بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے۔ (اب بھی اس کی عمر 96 برس ہے)۔ لڑکا کہتا ہے کہ تم سخت جان ہوا کرتے تھے‘ اب تم کمزور ہو۔ تم تو سانڈوں پر سواری کرتے تھے‘ گھوڑوں پر سواری کرتے تھے۔ تم توپ چیز تھے۔ مائیک بولا: ہاں‘ یہ تو ہے۔ میں واقعی خود کو کچھ سمجھتا تھا۔ وہ لڑکا بولا: ہاں‘ تم طاقتور ہوا کرتے تھے‘ ایک مردِ میدان لیکن اب تو تم کچھ بھی نہیں ہو۔ مائیک بولا ''ہاں، میں پہلے واقعی بہت توپ چیز ہوا کرتا تھا لیکن اب نہیں ہوں۔ اور میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں کہ ہم انسان یہ مردانگی اور بہادری والی بات بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اس کیلئے تو بہادری والی بات بالکل ٹھیک ہو سکتی ہے (لڑاکے مرغے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) لیکن یہ بہادری بہت بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے۔ لوگ خود کو بہادر دکھانے یا بننے کی کوشش کرتے ہیں‘ صرف یہ شو کرنے کیلئے کہ ان میں بہت ہمت ہے۔ آخر میں ان کے پاس بس یہی کچھ رہ جاتا ہے۔ اور تم دوڑتے انسانوں کی بھیڑ میں نیچے بیٹھ کر ایک خطرناک سانڈ کو اپنے اوپر سے گزرنے دیتے ہو یا ایک وحشی گھوڑے پر بیٹھ کر اسے خود کو فضا میں پچاس فٹ اوپر تک اچھالنے دیتے ہو۔ ویسے یہ کتنا بے وقوفانہ کام تھا جو میں کرتا تھا۔ صرف ایک بے وقوف ہی ایسے پیشے میں ہوگا۔ اس وقت تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس سارے جواب ہیں‘ لیکن پھر جیسے جیسے تم بوڑھے ہوتے ہو تو تمہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ تمہارے پاس ان میں سے کسی ایک بات کا جواب بھی نہیں ہے۔ جب تک تمہیں یہ بات سمجھ آتی ہے‘ بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ہم سب کو زندگی میں انتخاب کرنے پڑتے ہیں۔ بچے‘ تمہیں اپنا انتخاب کرنا ہے‘‘۔ اگر آپ اس سین میں سکرپٹ رائٹر کی لکھی گئی ان لائنوں کو غور سے پڑھیں اور ان کی گہرائی میں جانے کی کوشش کریں تو آپ کو زندگی کی حقیقت سمجھ آتی ہے کہ ایک چیز جو کبھی جوانی میں آپ کو بہادر بناتی ہے‘ مردانگی کا ٹائٹل لگتی ہے‘ جس پر آپ فخر محسوس کرتے ہیں اور خود کو خطرات میں ڈال کر بہادری کا ثبوت دیتے ہیں اور دنیا سے واہ واہ اکٹھی کرتے ہیں‘ وہی عمر گزرنے کے ساتھ آپ کیلئے کشش کھو دیتی ہے۔ عمر کے ساتھ آپ کو یہ سب کچھ عجیب اور بے وقوفانہ سا عمل لگتا ہے کہ کبھی آپ کو ایسی چیزیں کرنا بھی پسند تھا‘ ان میں خوشی محسوس ہوتی تھی اور لوگ واہ واہ کرتے تھے۔ بلے بلے آپ کے کانوں کو بھلی لگتی ہے۔ آپ خود کو ایک بھگوان سمجھ لیتے ہیں اور یہی یقین دلائے رکھتے ہیں کہ آپ کا یہ پرائم ٹائم ہمیشہ چلے گا۔ آپ ہمیشہ جوان رہیں گے‘ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے۔ یہی بات شاید میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بھارتی فلمی سپر سٹار راجیش کھنہ کی موت پر اس کے ایک دوست کا انٹرویو سنا تھا جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ اپنے عروج پر کھنہ کہتا تھا کہ اسے کبھی زوال نہیں آئے گا‘ وہ ہمیشہ جوان رہے گا‘ ہمیشہ سپر سٹار رہے گا۔ فلمی ولن رضا مراد نے راجیش کھنہ کے بارے میں کہا تھا کہ ایک وہ بھی دور تھا جب مشہور محاورہ بولا جاتا تھا کہ ''اوپر آقا، نیچے کاکا‘‘۔ کاکا راجیش کھنہ کا نِک نیم تھا۔ اور پھر دھیرے دھیرے جب کھنہ کا عروج ختم ہونے لگا تو اسے ڈپریشن نے گھیر لیا۔ آخر وہ دور بھی آیا کہ بڑھاپے کے ساتھ تنہائی نے گھیر لیا۔ میں اس مووی کلپ کی خوبصورتی میں کھویا رہا کہ کتنے لوگ ہوں گے جو اپنی جوانی گزرنے کے بعد مڑ کر دیکھتے ہوں تو وہ اس کردار کی طرح یہ کہنے کی ہمت رکھتے ہوں کہ میں ساری عمر کیا جھک مارتا رہا‘ دوسروں پر اپنی جوانی کی دھاک بٹھانے کیلئے سانڈوں سے لڑتا رہا‘ وحشی گھوڑوں کو سدھارنے کا کام کرتا رہا اور بلے بلے کماتا رہا۔ یہ بھی کوئی عقلمندی تھی کہ غصیلے سانڈوں کی دوڑ میں ان کے ساتھ دوڑتے دوڑتے اچانک نیچے بیٹھ کر انہیں اوپر سے گزرنے دینا یا پھر وحشی گھوڑے پر بیٹھ کر اسے قابو کرنے کی کوشش میں‘ چاہے وہ آپ کو پچاس فٹ اوپر فضا میں اچھال دے اور آپ زمین پر آ گریں اور آپ کی ہڈیاں پسلیاں ٹوٹ جائیں‘ صرف اس لیے تاکہ آپ دوسروں پر یہ رعب ڈال سکیں کہ آپ ایک مرد ہیں‘ آپ بہت بہادر ہیں۔ میں بہادر نہیں‘ بے وقوف تھا۔ 👇 dunya.com.pk/index.php/autho…
11
23
144
24,932
One of oldest surviving buildings in Pakistani hills - 145 yrs old Punjab Forest School Ghora Galli (I am totally in love with it's moss covered walls) Nearby is one of the oldest Deodar Trees of Pakistan - I calculated it's age in 2016 as 127 yrs (thru counting annual rings)
15
115
2,212
Qurat Ul Ain retweeted
جہاں کروڑوں بچے خوراک و تعلیم کی کمی کا شکار ہوں، اور کئی دہائیوں پر مبنی سرکاری منصوبے بھی صرف اتنے بچوں کو ان کا حق دے سکیں کہ فوٹو شوٹ اچھا و جذباتی اور حامی مطمئین ہو جائیں، جبکہ 99.9٪ کیلئے کوئی پلاننگ تک نہ ہو، وہاں نظام بچوں پر ہونے والے ہر ظلم کا براہ راست ذمہ دار ہے۔
1
15
40
749
I teach in American schools, where if a child isn’t eating properly, someone notices. We check in. We call home. A young life is treated as something worth protecting. In another world, a fifteen-year-old orphan in Multan is running for his life with a car closing in behind him, and my heart bleeds. Oh Allah, where are you? He had no one left to call. No one to notice he was afraid. Just a childhood that never got to begin.
دماغ سُن ہو گیا ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا لکھوں۔ ہم کیسے جانوروں میں گھرے ہیں۔ بچے سے کوئی غلطی ہوئی بھی تھی تو اس سفاکیت سے اسے موت کے گھاٹ اتار دینا.... ملتان میں ہونے والی اس بربریت میں صرف ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے حالانکہ گاڑی سے دو درندے اترتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ ایک بھی اب تک زندہ کیوں ہے؟ بچہ یتیم اور لاوارث بتایا جا رہا ہے۔ خون رائیگاں ہی جائے گا۔
1
4
456
Sheesh Mehal : Where Mirrors Light and Space Interplay Sheesh Mehal a masterpiece of architecture was built inside Lahore fort during Shah Jahan’s period in1631-1632 within the Shah Burj complex. Asif Khan supervised the construction of the palace. Named as “Palace of Mirrors” but its splendor is extraordinary. It was not an ordinary public hall but a royal residence for the family and selected courtiers. Was Sheesh Mehal built for Mumtaz? One legend says that Mumtaz dreamed of herself floating so high in the sky and touching the stars. She longed to experience same in real life which was responded by the emperor Shah Jahan as he ordered the construction of the “Palace of Mirrors” where mirrors reflect brilliance of stars. Its ceiling is star shaped . A chamber deep inside the palace was built for Shah Jahan and Mumtaz but she passed away before even completion of the palace. The legend associated with Mumtaz and Sheesh Mehal shouldn’t be taken as an established fact. Originally palace was studded with diamonds, pearls and precious stones which were looted and colored glass ornaments were introduced. Sheesh Mehal under Maharaha Ranjit Singh When Maharaja Ranjit Singh captured the fort he also chose Sheesh Mehal as private residence and built a harem over the Sheesh Mehal that put excessive dead load on the false ceiling of the palace. The rooms were removed during conservation work in 1905-1906 under British rule.
1
3
130
Qurat Ul Ain retweeted
LLSMW 🕊 ❤️ Scotia Bank arena hologram show, Toronto Hologram show 🇨🇦 #SidhuMoosewala #JusticeForSidhuMooseWalaa
2
36
210
11,564
295 is ON n ON n ON ••• for Aeons #SidhuMooseWala GooseBumps 💢💢💢 SignedToGod 🏁 World Tour #JusticeForSidhuMooseWala
2
24
106
6,758
Qurat Ul Ain retweeted
Replying to @AinnieAS
A world of preserved ancient sites like Mohenjo-Daro, Rohtas Fort and Nandana, with interfaith harmony, open museums and shared heritage education at the center.
1
1
105
Qurat Ul Ain retweeted
Yesturday's sunset on express highway from a movie car.
5
5
36
945
Qurat Ul Ain retweeted
A highly informative post by @AinnieAS on who initially built the Lahore fort & how it was reshaped by successive Mughal rulers into a towering monument evoking mixed feelings today. It is also part of history that Gen Zia turned it into torture cell for political prisoners.
Lahore Fort was rebuilt by Malik Ayaz Ghazni; adorned by Akbar and his successors According to securely documented history Lahore fort was built long before Mughals. Records say 1st Ghaznavid governor of Lahore Malik Ayaz rebuilt the fort and its walls (Ian Talbot &Tahir Kamran,2017) which is backed by the archaeological excavation report of Department of Archaeology and Museums Government of Pakistan 1959. Who built it originally??? In the said excavation a gold coin from Ghaznavid period and occupation levels much older than the Ghaznavid period( pre Muslim era); a roughly 12feet high mud brick wall was recorded. Archaeologists regard it as the fortress which was attacked by Mehmud of Ghazni during his invasion. Akbar brought transformation to the fort and turned it into an extraordinary monument. He shaped the fort with the use of baked brick and red sand stone:that gave birth to richly embellished and adorned palaces and courts at the fort. Jahangir added more decoration and a striking feature as Picture Wall. Picture Wall is a fine piece of Art with glazed tiles, mosaic work, geometric designs, courtly scenes, flora and fauna. Shah Jahan brought white marble- built Sheesh Mehal, Naulakha Pavillion, Moti masjid, mirror work and petra-dura into the heart of the fort. Aurangzeb gave gigantic and monumental the Alamgiri Gate facing Badshahi Mosque. Later, it became royal residence of Ranjit Singh and then came under the use of British.
1
17
43
7,817
ہاۓ ماں میرا دل لے جا اپنے نال 💔💔💔
100 سال سے زائد عمر کی یہ افغان خاتون اپنی پوری زندگی پاکستان میں گزارنے کے بعد آج افغانستان واپس جا رہی ہیں۔ سرحد پار کرنے سے پہلے انہوں نے پاکستان کی سرزمین پر آخری بار رک کر دعا کی، ایک ایسی سرزمین جسے انہوں نے پوری زندگی اپنا گھر سمجھا۔
11
1,930
Our pioneer archaeologist Dr.Ahmad Hassan Dani (gold medalist Benares University) had similar thoughts and openly stated them. Dr Dani was brought to Pakistan from Dhaka State University by the then President of Pakistan Ayub Khan
Did you know? Iqbal regarded Buddha as Prophet and also quoted story of Ambapali in Javed Nama. Iqbal's reference to Gautam Buddha, as one of the prophets, demonstrates his profound reverence for the founders of all reli-gions. This was a bold move on his part.
2
1
12
740
Qurat Ul Ain retweeted
چکنمبراٹھاٹ کوسیراب کرتی گوگیرہ برانچ، جو بڑےپانیوں کی ماں ہے، سےنمو پاتی ایک کھوج جوکشاں کشاں راوی کےاِس پارجھامرہ اوراُس پاربنگلہ گوگیرہ لیےجاتی ہے راوی کےراٹھ رائےاحمدکھرل کی داستان جسےڈھکاں آج بھی یادکرتی ہیں مانی جنکشن کےصفحوں سے ایک بہت محبوب کتھا meemainseen.com/2023/10/goge…
19
58
1,562
Lahore Fort was rebuilt by Malik Ayaz Ghazni; adorned by Akbar and his successors According to securely documented history Lahore fort was built long before Mughals. Records say 1st Ghaznavid governor of Lahore Malik Ayaz rebuilt the fort and its walls (Ian Talbot &Tahir Kamran,2017) which is backed by the archaeological excavation report of Department of Archaeology and Museums Government of Pakistan 1959. Who built it originally??? In the said excavation a gold coin from Ghaznavid period and occupation levels much older than the Ghaznavid period( pre Muslim era); a roughly 12feet high mud brick wall was recorded. Archaeologists regard it as the fortress which was attacked by Mehmud of Ghazni during his invasion. Akbar brought transformation to the fort and turned it into an extraordinary monument. He shaped the fort with the use of baked brick and red sand stone:that gave birth to richly embellished and adorned palaces and courts at the fort. Jahangir added more decoration and a striking feature as Picture Wall. Picture Wall is a fine piece of Art with glazed tiles, mosaic work, geometric designs, courtly scenes, flora and fauna. Shah Jahan brought white marble- built Sheesh Mehal, Naulakha Pavillion, Moti masjid, mirror work and petra-dura into the heart of the fort. Aurangzeb gave gigantic and monumental the Alamgiri Gate facing Badshahi Mosque. Later, it became royal residence of Ranjit Singh and then came under the use of British.
7
7
33
9,456
Qurat Ul Ain retweeted
الحمد للہ PSRP جس سکول میں چند بچے تھے اب اسی سکول میں 112 بچے ہو گئے ہیں
3
7
65
967
Qurat Ul Ain retweeted
جسّوراں کے شہید ___ ڈسکہ شہر میں سمبڑیال روڈ پر برلبِ سڑک ایک قبرستان کے داخلی دروازے کے ساتھ ایک کمرے میں دورویہ قطار میں دس قبریں ہیں۔ جب میں پہلے پہل یہاں سے گزرا تھا تو ان کا رنگ ہلکا سبز تھا۔ 2009 کا سال تھا جب میں لاہور سےسیالکوٹ جاتے ڈسکہ کے ایک قبرستان میں رکاتھا
3
24
99
17,224
Qurat Ul Ain retweeted
کال بلیندی نارد اٹھیاشیراں وانگ بھنگراکے رائےاحمد گھل ہیرو،کاٹھیے،ویہنی وال،بگھیلے،وٹو کھرل لیوس کول بُلاکے بھیڑیےپئےنیں سعی سرورکےاوہناں نوں دکھ ولےآلےدےہاین دتا نیں صاف جباب سناکے راءاحمد آکھیا ضدی کیتی نیں دادکیاں، ہو جمنا تے مر ونجنا چھڈو ہا ڈنگ ٹپا کے meemainseen.com/2023/10/goge…
4
4
326
Qurat Ul Ain retweeted
I shall be telling this with a sigh Somewhere ages and ages hence: Two roads diverged in a wood, and I —- I took the one less traveled by, And that has made all the difference. — Robert Frost
7
24
680
Qurat Ul Ain retweeted
Very informative indeed. We must be grateful to Sir Mortimer Wheeler for his amazing work and efforts to help find our thousands years old historical past.
Sir Mortimer Wheeler was the last Director General of Archeological Survey of India and after partition he became Advisor to the Newly established Government of Pakistan. Sir Mortimer Wheeler introduced scientific methods of like grid system excavation etc. Serving as Archaeological Advisor to the Government of Pakistan Sir Mortimer Wheeler started excavating Mohenjodaro in 1950 and trained a generation of archaeologists in Pakistan. In this Video Sir Mortimer Wheeler is seen taking a UN Mission on a tour of the site of Mohenjodaro Courtesy: UCLA film and Television Archive
1
16
125
32,525